ملا صدرا اپنی کتاب مفاتیح الغیب میں لکھتے ہیں: "جان لو کہ وجود وہ اہم ترین اور قابل توجہ ترین چیز ہے جو حقیقت رکھتی ہے۔ کیونکہ جو کچھ بھی حقیقتِ وجود کے بغیر ہے وہ وجود کے واسطے سے صاحب وجود ہوتا ہے اور وجود پاتا ہے۔ پس جو وجود واسطہ بنتا ہے کہ دوسری چیزی اس کے ذریعے اپنے حق تک پہنچتی ہے، وہ خود زیادہ مستحق ہے اس کے، کہ صاحب حقیقت ہو، پس یہ کیسے ممکن ہے کہ وجود ایک اعتباری چیز ہو یا انتزاعی (اور تجریدی اور تصوراتی) ہو۔ (1)

صدر المتألہین کی رائے میں: "وجود وہ امر ہے جو خارج میں موجود اور مُحَقَّق ہے اور کوئی بھی حد و رسم (اور تعریف و تجزیئے) کے ذریعے وجود کی حقیقت کا ادراک نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا ادراک حقیقت وجود کے مساوی، صورت کے وسیلے سے اس کی حقیقت کی کیفیت کا ادراک کیا جاسکتا ہے۔ حقیقتِ وجود، حقیقت واحدہ ہے اور اسی حال میں اس کے مراتب تقدم اور تأ ، کمال کی قوت و ضعف اور غِنٰی اور فقر (احتیاج) کے لحاظ سے مختلف ہے؛ اور چونکہ حقیقتِ وجود عینی اور خارجی امر ہے اس کی ذہن میں منتقلی اس کی حقیقت کو باطل کردیتی ہے اور جو تصویر حقیقت وجود سے، انسان کے ذہن میں، بنتی ہے وہ صرف وجود کا شَبَح (یا سایہ) ہے نہ کہ حقیقتِ وجود، پس ممکن نہیں ہے کہ حقیقتِ وجود کا ادراک کیا جائے سوا اس کے کہ چشم باطن کے ذریعے شہود کے ذریعے؛ نہ کہ تحدید و تعریف اور برہان و دلیل کے اشاروں یا الفاظ و عبارات کے سانچے میں تفہیم کے ذریعے"۔

وہ بعد ازاں چاہتے ہیں کہ حقیقت وجود کی بساطت کو ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "حقیقتِ وجود اپنی ذات میں ایک امر بسیط ہے جس کے لئے کوئی جنس اور فصل نہیں ہے اور نیز حقیقتِ وجود کے خارج میں یا حتی ذہن میں وجود میں آنے کے لئے جنس، فصل یا عَرَض کی قید اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کے لئے ی ایسی چیز سے مقید ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو اس کو دو قسموں میں تقسیم کرے یا اس کو متعین اور واضح کردے"۔(2)

وجود کا اشیاء پر شمول (مشتمل ہونا) ایک "کلی" کا اپنے اجزاء پر مشتمل ہونے کی مانند نہیں ہے بلکہ اس کا شمول (اشتمال) تمام اشیاء پر انبساط اور سَرَیان اور ظہور اور ہیاکل کی ماہیات کی صورت میں ہے۔ ایک ایسے سریان کی صورت میں جو مجہول صور اور ناقابل ادراک ہے۔

اگر ہم دوسرے الفاظ میں مذکورہ بالا بیان کی وضاحت کرنا چاہیں تو کہتے ہیں:

وجود ایک واحد عینی، بسیط اور منبسط حقیقت ہے عالم وجود کے تمام موجودات پر اور وجود کے مراتب و مدارج کمال اور نقص اور شدت و ضعف کے لحاظ سے مختلف ہے اور کمال کی غایت وہ مرتبہ ہے جس سے زیادہ کامل و مکمل کوئی مرتبہ نہیں ہے اور اس کا تعلق غیر سے نہیں اور اس کا سہارا ی غیر پر نہیں ہے اور اس سے اتمّ و اکمل مرتبہ قابل تصور نہیں ہے۔ وہ محض وجود ہے اور وجود کے مراتب افعال، اسماء اور آثار سے عبارت ہیں اور یہ سب منبسط اور قائم بذات وجود کے مراتب ہیں چنانچہ ہم صدیقین کے برہان میں وجود کے نازل و ناقص مراتب ـ جو اسی حال میں وجود کے آثار و افعال ہیں ـ سے اس کے کامل و اکمل مرتبے تک راہ پاتے ہیں۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ

1۔ ملاصدرا مفاتیح الغیب، ص589۔

2۔ ملاصدرا، شواهدالربوبیه ترجمه جواد مصلح، ص 11- 14۔

3- فرهنگ اصطلاحات فلسفى ملاصدرا ص 82 ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ماهیت

ماہیت منطق کی اصطلاح میں ایک "کلیِ ذاتی" ہے جو در حقیقت "یہ کیا ہے" یا "ما هو" کا جواب ہے۔ ماہیت کلیات خمس میں سے نہیں ہے لیکن اس کے بنیادی مفاہیم میں سے ایک ہے؛ اور اس کے حوالے سے ذات اور عَرَض کا تعین ہوتا ہے۔ ماہیت اور وجود علم فلسفہ کے دو موضوعات ہیں اس حد تک کہ یہ وجود پاتی ہے یا یہ ایک موجود کو اس کے نام سے پہچانا جاتا ہے، یہی اس موجود کی ماہیت ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ "اس موجود کی ماہیت "حیوان ناطق" ہے۔ اور ماہیت وجود پر عارض ہوتی ہے۔

ماخذ: کلک کریں: ماهیت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ف ح مہدوی